بنگلورو۔10/اکتوبر(ایس او نیوز) نشیلی اشیاء سے ریاست کے طلبا اور عوام تباہی کے دہانے پر پہنچ رہے ہیں۔اس سنگین معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ریاستی لیجسلیچر کی پٹیشن کمیشن نے متعلقہ محکموں کو تین ماہ کی مہلت دیتے ہوئے اس خصوص میں موجود قانون پر سختی سے عمل کرنے اور نوجوان نسل کو نشہ کی لت سے باہر لانے کی ہدایت دی ہے۔ اسی طرح اس خصوص میں رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ ریاستی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر این ایچ شیوشنکر ریڈی کی صدارت میں ستمبر کے دوران منعقدہ کمیٹی کے اجلاس میں نشیلی اشیاء سے متعلق بحث ہوئی، اور ان پر قابو پانے کیلئے کئے گئے اقدامات سے متعلق رپورٹ پیش کرنے محکمہئ پویس، محکمہئ صحت اور ڈرگ کنٹرول کو تین ماہ کی مہلت دی گئی۔ انہیں یہ بھی ہدایت دی گئی کہ تینوں محکموں میں تال میل کے ذریعہ دسمبر تک رپورٹ پیش کی جائے۔انسداد تمبا کو قانون کے موثر نفاذ میں ہورہی کوتاہیوں کے سبب طلبا اور عوام نشیلی اشیاء کے عادی بنتے جارہے ہیں، جس سے وہ برسر عام بدتمیزی کرنے لگے ہیں۔ اس معاملے پر لیجسلیچرس کی کمیٹی برائے بہبودی ئ خواتین واطفال کے اجلاس میں بھی غور کیاگیا اور شہر کے مختلف مقامات پر کھلے عام نشیلی اشیاء کی فروخت پر قابو پانے کیلئے عوام میں بیداری پیدا کرنے کا فیصلہ لیاگیا۔ عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر روک لگانے کیلئے محکمہئ پولیس کے سربراہ کے علاوہ پولیس کمشنر اور دیگر پولیس افسران کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس معاملے پر سخت کارروائی کی ہدایت دی گئی اور بتایا گیا کہ تعلیمی اداروں سے قریب سگریٹ کے علاوہ دیگر تمباکو اشیاء کی فروخت پر روک لگانے کیلئے ہر تھانہ میں ایک افسر کا تقرر کیاجائے۔ بنگلور، منگلور، ہبلی دھارواڑ، میسوراور بلگاوی سمیت ریاست کے مختلف مقامات پر تعلیمی اداروں سے قریب تمباکو اشیاء کی فروخت کا سلسلہ جاری ہے، اور عوامی مقامات پر تمباکو نوشی بھی کھلے عام جاری ہے، جس کے پیش نظر سخت اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔